16 جون 2013 - 19:30
ترکي ميں عوام اور حکومت کا تصادم

ترکي ميں رجب طيب اردوغان کي حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں نے اپنے احتجاج کے اٹھارہويں دن انقرہ اور استنبول شاہراہ کو بند کرديا ہے -

ابنا: يورو نيوز کے مطابق سنيچر اور اتوار کي رات انقرہ استنبول اور ديگر شہروں ميں پوليس اور مظاہرين کے درميان جھڑپيں ہوتي رہيں –ترکي کي پوليس نے استنبول کے تقسيم اسکوائر اور گزي پارک ميں موجود مظاہرين کو طاقت کے ذريعے باہر نکال ديا جس کے بعد شہر  کے مختلف علاقوں ميں  زبردست احتجاج کئے گئے-اطلاعات ہيں کہ عثمان بيگ کے علاقے ميں پوليس اور مظاہرين کے درميان شديد جھڑپيں ہوئي ہيں - ترکي کے دارالحکومت انقرہ ميں بھي سنيچر اور اتوار کي درمياني رات عوام نے زبردست احتجاجي مظاہرہ کيا اور لوگوں نے استنبول انقرہ شاہراہ کو بند کرديا -واضح رہے کہ ترکي کي پوليس نے مظاہرين پر تشدد کرکے استنبول ميں تقسيم اسکوائر کے قريب واقع گزي پارک کو خالي کراليا - پوليس اور سيکورٹي فورس کي اس کاروائي ميں دسيوں افراد زخمي ہوئےہيں –پوليس نے پارک ميں خيموں کو اکھاڑ پھينکا اور مظاہرين کي طرف سے کھڑي کي جانےوالي رکاوٹوں کو بھي ہٹا ديا -ترک وزير اعظم رجب طيب اردوغان نے سنيچر کو مظاہرين کو الٹي ميٹم ديا تھا کہ وہ تقسيم اسکوائر خالي کرديں- انہوں نے دھمکي دي تھي کہ اگر مظاہرين نے ايسا نہيں کيا تو پوليس زبردستي ان سے تقسيم اسکوائر اور گزي پارک خالي کرالے گي - دوسري جانب ترکي ميں مزدور يونينوں نے پير کو عام ہڑتال کا اعلان کرديا ہے -ترکي ميں مزدور يونينوں کي کنفڈريشن کےترجمان مصطفي تورگوت نے کہاکہ مظاہرين پر پوليس کے تشدد کے  خلاف ہڑتال کي کال دي گئي ہے –......./169